ابھی نیوزی لینڈ میں ہونے والے بہیمانہ دہشت گرد حملےکی سفاکیت کا زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ سری لنکا میں دہشت گردی کی نئ تاریخ رقم ہو گئ ہے۔
نیوزی لینڈ میں جنونی شخص نے جس طرح پیشانی پر کیمرہ نصب کر کے سفاکانہ کارروائ کی ۔ اور عبادت میں مشغول معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہوۓ براہ راست ویڈیو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر لوگوں کو دکھائ ماضی میں اس طرح کی مثال نہیں ملتی۔ شقی القلب اور ظالم قاتل نے نہ صرف بے دردی سے لوگوں کو قتل کیا بلکہ ساتھ ساتھ میوزک سے بھی لطف اندوز ہوتا رہا۔ اس امر سے اس شخص کی سفاکیت اور ذہنی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اسی طرح سری لنکا میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دھماکوں نے پر امن دنیا کے خواب دیکھنے والوں کو انتہائ ظالمانہ پیغام دیا ہے۔ دہشت گردوں نے بڑی پلاننگ سے وقت اور مقامات کا انتخاب کیا ہے۔ تا کہ عیسائ کمیونٹی کے مقدس تہوار کی خوشیوں کو تباہ و برباد کیا جا سکے۔
نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقعہ کا وزیر اعظم جسینڈا نے جس قدر عقلمندی اور مدبرانہ انداز میں سامنا کیا ہے وہ دنیا بھر کے حکمرانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ وزیر اعظم جسینڈا کے اس عمل نے غم زدہ خاندانوں کے دکھ کو
آدھا کر دیا ہے۔
سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی کے فوراً بعد عالمی راہنماؤں نے جس یکجہتی اور دکھ کا اظہار کیا وہ بھی قابلِ تعریف ہے۔ خاص طور حکومتِ پاکستان کی طرف سے فوراً ہر طرح کی مدد کی پیشکش قابلِ ستائش ہے۔ شنید ہے کہ لاشوں کی پہچان کے لیے پاکستان سے فرانزک خدمات لی جا رہی ہیں۔ جوکہ برادر ملک کے لیے اس برے وقت میں اچھے تعاون کی بہترین کوشش ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنماؤں کو مذمت اور دکھ کے اظہار کی پالیسی سے آگے بڑھنا ہو گا۔اورمستقبل میں ایسے واقعات سے نبٹنے کے لیےمشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔جو اپنے اپنے ملک کے مفاد کے بجاۓ انسانیت کی بقاء کے لیے ہو۔

1 Comments
It's good effort. Informative for people.I like
ReplyDelete