گوگل کی کہانی


 انٹرنیٹ کے بادشاہ ’گوگل‘ کی کہانی، واقعی یہ پشتو کا لفظ ہے؟

یہ کہانی 1996 کے ایک خواب کی ہے، جو دو ذہین نوجوانوں نے دیکھا تھا۔ لیری پیج اور سرگے برن، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم، دنیا کو ایک نئی سمت دینے کے لیے کچھ خاص کرنا چاہتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب انٹرنیٹ نیا نیا مقبول ہو رہا تھا، اور لوگ اس میں بھٹک رہے تھے۔ ان کے ذہن میں سوال تھا: "کیا ہم انٹرنیٹ پر موجود بے پناہ معلومات کو ترتیب دے سکتے ہیں؟"

"BackRub" کا آغاز

لیری اور سرگے نے ایک پروجیکٹ بنایا، جس کا نام "BackRub" رکھا۔ یہ ایک ایسا سرچ انجن تھا جو ویب پیجز کے درمیان روابط (لنکس) کو دیکھ کر ان کی اہمیت کا اندازہ لگاتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ کون سا ویب پیج دوسرے ویب پیجز سے زیادہ منسلک ہے، تو ہمیں بہترین نتائج مل سکتے ہیں۔

لیکن "BackRub" نام زیادہ دلچسپ نہ لگا۔ انہیں ایک ایسا نام چاہیے تھا جو ان کے خواب کو بیان کرے۔ ایک دن، جب وہ ریاضی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، تو "Googol" کا لفظ سامنے آیا، جو 1 کے بعد 100 صفر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ان کے مقصد کے لیے موزوں تھا: دنیا کی بے شمار معلومات کو ترتیب دینا۔ اور یوں "Google" کا نام سامنے آیا۔

ایک گیراج سے شروع ہونے والی کہانی

1998 میں، لیری اور سرگے نے اپنا کام جاری رکھنے کے لیے ایک جگہ کی ضرورت محسوس کی۔ سوزان ووجسکی نے انہیں اپنا گیراج کرائے پر دیا۔ اسی گیراج میں گوگل کی بنیاد پڑی۔ لیکن ایک مسئلہ تھا: ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔

ایک دن، اینڈی بیچٹولشیم نامی ایک سرمایہ کار ان کے پروجیکٹ سے متاثر ہوا اور انہیں $100,000 کا چیک دیا۔ یہ ان کے لیے پہلی بڑی کامیابی تھی۔ اس رقم سے انہوں نے اپنے سرورز خریدے اور گوگل کو بہتر بنایا۔

گوگل کو بیچنے کا خیال

ابتدائی دنوں میں لیری اور سرگے کو یقین نہیں تھا کہ گوگل کامیاب ہوگا۔ انہوں نے Excite نامی کمپنی کو گوگل بیچنے کی پیشکش کی، وہ بھی صرف $1 ملین میں! لیکن Excite نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔ یہ ان دونوں کے لیے ایک بڑی مایوسی تھی، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔

گوگل کی پہلی کامیابیاں

2000 میں، گوگل نے دنیا کے سامنے اپنی طاقت دکھائی۔ انہوں نے AdWords متعارف کرایا، جو ایک اشتہارات کا نظام تھا۔ یہ سسٹم نہ صرف کمپنی کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنا بلکہ گوگل کو ایک تجارتی طاقت بھی بنا دیا۔

اسی سال، گوگل نے Google Toolbar لانچ کیا، جس نے انٹرنیٹ کو مزید آسان بنا دیا۔

گوگل کا عروج

2004 وہ سال تھا جب گوگل نے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے Gmail لانچ کیا، جو 1 جی بی اسٹوریج کے ساتھ آیا، اس وقت کے لیے ایک انقلابی پیشکش تھی۔ اسی سال، گوگل نے اسٹاک مارکیٹ میں اپنا پہلا IPO لانچ کیا، اور یوں یہ کمپنی دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔

گوگل کی توسیع

2005 میں، گوگل نے Google Maps اور Google Earth متعارف کرائے، جنہوں نے دنیا کو نقشے کے ذریعے دیکھنے کا نیا طریقہ دیا۔

پھر 2006 میں، انہوں نے YouTube خریدا۔ یہ اس وقت ایک چھوٹا ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم تھا، لیکن گوگل نے اسے دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو پلیٹ فارم بنا دیا۔

جدت کی کہانی

2008 میں، گوگل نے اپنا براؤزر Google Chrome لانچ کیا، جو تیزی سے دنیا کا مقبول ترین براؤزر بن گیا۔

انہوں نے 2010 میں Self-Driving Car پروجیکٹ پر کام شروع کیا، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا باب تھا۔

تنظیم نو اور نیا دور

2015 میں، گوگل نے خود کو Alphabet Inc. کے تحت تنظیم نو کی۔ اس وقت لیری پیج اور سرگے برن نے Alphabet کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ سندر پچائی کو گوگل کا سی ای او بنایا گیا۔

آج کا گوگل

آج گوگل صرف ایک سرچ انجن نہیں ہے۔ یہ YouTube، Android، Gmail، Maps، Cloud Computing، AI، اور بے شمار دیگر شعبوں میں کام کر رہا ہے۔

یہ کہانی صرف دو لوگوں کے خواب، محنت اور جدوجہد کی نہیں، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ اگر آپ کا مقصد بڑا ہو، تو دنیا آپ کے ساتھ چلتی ہے۔

نتیجہ

گوگل کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوٹے خواب بھی بڑے ہو سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہار نہ مانی جائے۔ ایک گیراج سے شروع ہونے والی یہ کمپنی آج دنیا کو جوڑنے والی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔

Post a Comment

0 Comments