سیاست اور اخلاقیات

سیاست اور اخلاقیات                                                             




                                                               

پاکستان کی سیاست کو اگر جھوٹ، دھوکہ دہی اور موقعہ پرستی کا ملغوبہ کہا جائے تو یقینی طور پر بے جا نا ہو گا۔  سیاستدان عوام اور عوام  سیاستدانوں سے اس قدر  واقف ہو چکے ہیں کہ اب بڑی سے بڑی بات بھی روٹین کا معاملہ لگتی ہے۔ کسی سیاسی راہنما کی پارٹی تبدیلی اور جھوٹ کا بیانیہ کسی کو برا نہیں محسوس ہوتا۔کیونکہ عوام ان کو اپنا لیڈر اور راہنما مانتے ہی نہیں۔ کسی ادارے اور عہدے کا تقدس باقی نہیں رہا۔ صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف، آئی ایس آئی سربراہ، چیف جسٹس، جج صاحبان، سربراہ الیکشن کمیشن، صحافی،اینکر حضرات، اور سب سے بڑھ کر وی لاگرز، کوئی بھی عزت کے قابل نہیں رہنے دیا گیا۔ جھوٹ اور غلط بیانی کو اتنا عام کر دیا گیا ہے کہ سچ اور حقیقت کی پہچان ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان کو ایک اچھی ریاست بنانا ہے تو عوام الناس کو اپنی آنکھوں سے اپنی اپنی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر شپ کی جھوٹی باتوں اور غیر اخلاقی باتوں سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہو گا۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلوں کو مزید بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


Post a Comment

0 Comments