محمود بھٹی پاکستانی نژاد نامور بین الاقوامی فرانسیسی فیشن ڈیزائنر زیرو سے ہیرو
محمود بھٹی پاکستانی نژاد نامور بین الاقوامی فرانسیسی فیشن ڈیزائنر ہیں۔خالی ہاتھ پیرس پہنچنے کے بعد کئی برس ٹھوکریں کھائیں۔ فاقے کاٹے۔شدید سردی میں میٹرو سٹیشن پر راتیں گزاریں۔لیکن پھر سخت محنت، لگن اور جدوجہد کے بعد محمود بھٹی اب بین الاقوامی فیشن برینڈ ہیں۔ ایک صفائی کرنے والے سے آئیکون بننے کا سفر بہت طویل اور کٹھن ہے۔1977ء میں لاہور سے خالی ہاتھ جانے والے محمود بھٹی کے پاس اب 500 ڈیزائنر کام کر رہے ہیں۔ ان کی کمپنی دنیا کے کئی ممالک میں کام کر رہی ہے۔خدمات کے اعتراف میں انہیں دینا بھر سے کئی اعزازات مل چکے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کی طرف سیـــ اعلی اعزاز مل چکا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز کے بعد اب ہلال امتیاز بھی مل چکا ہے۔محمود بھٹی کی زندگی اور جدوجہد پر کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔آپ بیتی پیرس میں دوسرا جنم کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ پاکستان میں ان پر ڈرامہ بھی بن رہا ہے۔اب ایک اور کتاب بھی لکھ رہے ہیں۔ان کی رہائش گاہ کسی آرٹ گیلری سے کم نہیں۔ محمود بھٹی کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ دوسروں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کیا کرتی تھیں۔محکمہ اوقاف کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے اور زمین پر سوتے تھے۔ عید پر پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہوتے تھے۔ دوسرے لوگ جب نئے کپڑے پہن کر عید پڑھنے جاتے تو دیکھ کر سوچتا کہ کوئی بات نہیں میرے پاس بھی پیسے آئیں گے تو اچھے کپڑے پہنوں گا۔ اب اللہ نے مجھے فیشن انڈسٹری کا حصہ بنا دیا ہے۔ اور مہنگے ترین برینڈز پہنتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکام بالا گارنٹی دیں تو وہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان لا کر بھاری سرمایہ کرنے کو تیار ہیں۔پاکستان میں ان کا بنایا ہوا پہلا فیشن سکول اب فیشن یونیورسٹی بن چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ میرے پاس امریکن اور فرنچ پاسپورٹ ہیں لیکن میرا خون پاکستانی ہے۔اور دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے

0 Comments