قاضی سلطان محمود (پیپلز پارٹی کا روشن ستارہ اور آصف علی زرداری کا رول ماڈل)

 قاضی سلطان محمود   (پیپلز پارٹی کا روشن ستارہ اور آصف علی زرداری کا رول ماڈل)




قاضی سلطان محمود کا قد تین فٹ تھا اور ان پیدائش ان کی فیملی کے لیے دھچکا تھی۔لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور ان کو دیکھ کر قہقہے لگاتے۔ اس وجود کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مشکل تھا۔ان کی والدہ ان کو گود میں اٹھائے مزاروں پر پھرتیں اور تعویز لیتیں تا کہ ان کے بیٹے کا قد بڑا ہو جائے۔قاضی سلطان محمود  نے اپنے چھوٹے قد کو کممزوری نہیں سمجھا۔پڑھائی سے لیکر روزگار کی تلاش تک کئی دشواریوں کا سامنا کیا، لوگوں کا مذاق اورطنز برداشت کیا لیکن کبھی ہمت نا ہاری۔ لوگوں کے رویوں سے پریشان قاضی صاحب قدرت کی طرف دیکھ رہے تھے ایک دن اخبار میں قاضی صاحب نے پڑھا کی ذوالفقارعلی بھٹو نام کا ایک شخص نئی سیاسی جماعت بنا رہا ہے۔اخبار میں پرٹی کا منشور پڑھتے ہوئے ایک فقرے پر ان کی نظر رک گئی اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے قاضی سلطان محمود کے دل میں ذوالفقارعلی بھٹو اور پیپلز پارٹی کی محبت پیدا کر دی اور ان کی زندگی کا مقصد ہی بدل گیا۔اس  میں لکھا تھا کہ نئی جماعت اس معاشرے کے تمام طبقات کو بغیر کسی امتیاز کے عزت دے گی۔قاضی صاحب کو بھٹو صاحب سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔ انہی دنوں بھٹو صاحب کے کچھ مہمان ان سے ملنے امریکا سے آئیاور قاضی صاحب جس ہوٹل میں کام کر رہے تھے وہاں ٹھہرے۔ قاضی صاحب پیپلز پارٹی کو جوائن کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ قاضی صاحب نے بھٹو صاحب کے مہمانوں کی خوب خدمت کی۔خورسید حسن میر بھی مہمانوں کی خدمت میں پیش پیش تھے۔قاضی صاحب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے کافی قریب آچکے تھے۔آپ نے بھٹو صاحب کے لیے ایک نظم بھی لکھ ڈالی جو بھٹو صاحب تک پہنچ گئی اور وہ اس نظم سے بہت متاثر ہوئے اور بھٹو صاحب نے نصراللہ خٹک اور خورشید میر سے کہا کہ میری ملاقات قاضی سلطان محمود  سے کرواؤ۔ خٹک صاحب نے قاضی صاحب کو بتایا کہ بھٹو صاحب آپ سے ملنے اسلام آباد آ رہے ہیں۔جب ہوٹل کے ملازمین کو پتا چلا کہ بھٹو صاحب قاضی صاحب کو ملنے ہوٹل آرہے ہیں  تو سب بہت حیران ہوئے۔قاضی صاحب اپنے قد کی وجہ سے بہت پریشان تھے کہ بھٹو صاحب ان کے قد  کو دیکھ کر نا جانے کیا ردعمل ظاہر کریں گے۔وہ انہی وسوسوں اور اندیشوں میں گھرے ہوئے تھے کی انہیں بتایا گیا کہ بھٹو صاحب ہوٹل پہنچ گئے ہیں۔اور اپنے کمرے میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔قاضی صاحب بھٹو صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے تو بھٹو صاحب کے ساتھ غلام مصطفی کھر اور خورشید حسن میر بھی بیٹھے تھے، بھٹو صاحب قاضی صاحب کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے  اور چند قدم آگے بڑھ کر جھک کر قاضی صاحب سے ہاتھ ملایا۔کمرے کا ماحول نامل ہونے کے بعد قاضی صاحب  نے انہیں بتایا کہ وہ ان سے  ملنے  سے کیوں خوف زدہ تھے۔  یہ سنتے ہی بھٹو صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ تھوڑے غصے سے بولے کہ آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ سے اس وجہ سے مذاق کرنا شروع کردوں گا۔ ایک سیاسی ورکر کی زندگی میں اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے جو قاضی صاحب پا چکے تھے۔ایک دفعہ آصف علی زرداری سے پوچھا گیا کہ آپ نے تو ساری زندگی انتہائی متمول ماحول میں گزاری تو پھی آٹھ سال جیل کی سختیاں کیسے برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا تو آصف علی زرداری نے سامنے بیٹھے قاضی سلطان محمود کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ تمہیں یہ شخص شائد قد میں بہت چھوٹا لگ رہا ہو۔لیکن یہ بڑے بڑے قد آور لوگوں سے بڑا شخص ہے۔یہ آدمی ضیاء الحق کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں شاہی قلعے میں سخت سزا کاٹ کے آیا ہے۔ قاضی سلطان محمود کوراولپنڈی میں پیپلز پارٹی کے جیالوں میں سب سے قد آور جیالا سمجھا جاتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments